Showing posts with label Southern Sindh Province. Show all posts
Showing posts with label Southern Sindh Province. Show all posts

“As a Sindhi, I condemn any talk of dividing Sindh” — PTI Sindh president

Thursday, 18 September 2014


KARACHI: The Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) said on Thursday that a division of Sindh would not be acceptable at any cost.

“As a Sindhi, I condemn any talk of dividing Sindh,” said PTI Sindh president Nadir Akmal Khan Leghari at a press conference at Palwal House, the residence of a senior PTI leader.

The party leader announced that PTI chief Imran Khan will be coming to Karachi on Sunday afternoon to address a sit-in near the Mazar-e-Quaid and would fly back to Islamabad the same night. He said that it had been a long time since Imran had interacted with the people of Karachi, and he was coming to meet them and express his gratitutde for their support.

Leghari asserted that had elections been free and fair in Karachi, PTI would have emerged as the biggest party, with the highest number of seats and votes in the metropolis. “In the next general elections, PTI will be the major party from Sindh,” he declared.

Referring to the recent incident where PIA passengers had forced Pakistan Peoples Party’s Rehman Malik and Pakistan Muslim League-Nawaz’s Ramesh Kumar off the plane, Leghari said that the PTI had exposed the VIP culture of Pakistani society and called for an end to this culture.

“Target killings have been prevalent in Karachi for years,” he said, moving on to the law and order situation in the city. “The law enforcement agencies know who these killers are, but they are not arrested and roam around freely instead.”

Leghari claimed that unlike the Punjab police, the Sindh police had been actively participating in PTI’s sit-ins in Karachi.

Published in the XReports.net, on September 19th, 2014 | Tribune
Continue Reading | comments

MQM Ex- MNAs & MPAs ask for Southern Sindh Province

Sunday, 13 May 2012

13-05-2012 / BBC
’ميڈیا کے ذریعے متحدہ کے سربراہ الطاف حسین اور رابطہ کمیٹی پر یہ زور دلانا چاہتے ہیں کہ وہ سندھ میں شہری عوام کے جائز مطالبے جنوبی سندھ کے صوبے کی حمایت کریں‘

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سابق وزاء سمیت کچھ سابق اراکین اسبملی اور رابطہ کمیٹی کے اراکین نے نیویارک میں سندہ میں انتظامی بنیاد پر الگ صوبے کا مطالبہ کردیا ہے۔
انہوں نے مجوزہ صوبے کو جنوبی سندھ کا نام دیا ہے۔ تاہم وہ یہ نہیں بتا سکے کہ اس نئے صوبے کی جغرافیائی حدود کیا ہوں گی تاہم انہوں نے سندھ کو جنوبی اور شمالی حِصّوں میں انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا پر زور الفاظ میں مطالبہ کیا۔

نیویارک میں ایم کیو ایم کے آدھ درجن سے زائد سابق منتخب اراکین اسمبلی اور زونل کیمٹی کے سابق اراکین نے، جو اب بھی ایم کیو ایم کے بنیادی ممبران ہیں، کہا کہ ان کے الگ صوبے کا مطالبہ کرنے میں ایم کیم ایم یا متحدہ کی قیادت یا پارٹی کا کوئي عمل دخل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایم کیم ایم کی قیادت سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ سندھ کی شہری آبادی کی اکثریت کے مطالبے پر توجہ دیتے ہوئے جنوبی سندھ نامی صوبے کے قیام کی حمایت کریں۔
یہ باتیں سنیچر کی شام نیویارک کے علاقے جیکسن ہائیٹس کے ایک ریستوران میں ایم کیو ایم کے کراچی کے سابق ڈپٹی میئر، دو سابق صوبائی وزراء اور دو ایم این اے اور آدھ درجن بھر سابق رابطہ کیمٹی اور ارگنائزنگ کمیٹی کے اراکین نے ایک پریس کانفرس کے ذریعے کی۔
متحدہ کے کراچی کے سابق ڈپٹی میئر متین یوسف نے آٹھ صفحات پر مشتمل اردو میں لکھی ہوئي پریس تقریر پڑھتے ہوئے کہا کہ ’حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے جہاں ملک میں مزید صوبوں کی بات کی جارہی ہے، اس سلسلے میں اسمبلیوں میں قراردادیں منظور کی جارہی ہیں، قانون سازی کی جارہی ہے، ایسے میں سندھ میں بھی ایک اور صوبے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔‘
متحدہ قومی موومنٹ کے ان سابق منتخب نمائندوں کا کہنا تھا کہ ’سندھ میں شہری علاقوں کی آبادی پچاس فی صد سے زیادہ ہے اور سندہ کی شہری آبادی سندھ کے محصولات کا پچانوے فی صد سے زیادہ حصہ پیدا کرتا ہے لیکن اختیارات میں اس کا حصہ پانچ فی صد سے بھی کم ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری عوام کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، وہ موجودہ نظام اور حکومتی ڈھانچے سے مایوس ہوچکے ہیں اور اب اپنے حقوق کے حصول کے لیے نئے صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مہاجر صوبے کی بات کر رہا ہے تو کوئی کراچي کے صوبے کی۔
متحدہ کے سابق اراکین اسبملی نے اس موقع پر موجود میڈیا کے اراکین سے کہا کہ وہ ميڈیا کے ذریعے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اور رابطہ کمیٹی پر یہ زور دلانا چاہتے ہیں کہ وہ سندھ میں ’شہری عوام کے جائز مطالبے جنوبی سندھ صوبے کی حمایت کریں۔‘
ان اراکین نے سندھ میں نئے صوبے کے قیام کے مطالبے کی سندھ اسبملی میں قرارداد مذمت کی متحدہ کے اراکین کی طرف سے حمایت کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’ہم آج آپ کے ذریعے واضح طور پر اور دو ٹوک انداز مین دنیا کے سامنے جنوبی سندہ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ملک میں نئے صوبے انتظامی بنیادوں پر بنیں اسی لیے ہم کسی مہاجر صوبے یا کراچي کے صوبے کی حمایت کے بجائے چاہتے ہیں کہ موجودہ صوبہ سندھ کو مساوی طور پر دو انتظامی یونٹوں میں تقسیم کردیا جائے: یعنی بالائي یا اپر سندھ اور لوئر یا زیریں سندھ یعنی جنوبی سندھ میں تقسیم کردیا جائے۔‘
انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے پس منظر میں دیوار پر اس نعرے کے ساتھ ’جینے کا منصوبہ ہوگا ، رہنے کو جب صوبہ ہوگا‘ کے نیچے صدرن سندھ پراونس موومنٹ کے نام سے ایک نقشہ بھی لگایا ہوا تھا جس پر کراچي اور حیدرآباد سمیت تھرپارکر، میرپور خاص، بدین اور ٹھٹہ ’جنوبی سندھ‘ میں شامل دکھائے گئے تھے۔
انہوں نے بی بی سی اردو کی طرف سے یہ سوال کہ ایسے مطالبے کی صورت میں اندرون سندھ میں رہنے والی اردو بولنے والی آبادی کیلیے مشکلات پیدا ہوں گی یا لسانی خون خرابے کے راستے کھول سکتا ہے کے جواب میں کہا کہ ’غلامی ختم کرنے کیلیے قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں‘۔
نیویارک میں سنيچر کی شام جنوبی سندھ کے مطالبے کی پریس کانفرنس کرنے والوں میں دو سابق اراکین قومی اسبملی رفیق عیسانی اور فرخ نعیم صدیقی، دو سابق وزراء عارف صدیقی اور عابد اختر، سابق ایم پی اے ایس معین الدین، سابق ڈپٹی میئیر کراچی متین یوسف اور ایک سابق زونل انچارج مسعود نبی خان شامل تھے۔
Continue Reading | comments

May 12, 2012 - A decisive day for a new province in Sindh

Friday, 11 May 2012

11-05-2012
Karachi: After Saraiki and Hazara Province Movement, there is another potential movement for a new province in Pakistan is gaining momentum rapidly, It's either MohajirProvince or Southern Sindh Province Movement. According to the reports, volunteers of Mohajir Province Movement have set bill boards, banners and graffiti related to Mohajir Province in all over Sindh. Karachi is the center point of this movement. A message is being circulated on social media websites, Facebook and Twitter about an important announcement to be made regarding the Mohajir Province or Southern Sindh Province on May 12th, 2012. According to the invitation circular, Leaders of Mohajir Province or Southern Sindh Province Movement is going to hold a very important press confernece, on Saturday, May 12th, 2012 by MQM's ex-ministers, ex MNAs, ex-MPAs, ex-Rabitta Committee member, senior ex-Office bearers and workers.
This Press Conference will commence at 5:00 PM New Yorks Times and 2:00 AM Pakistan Standard Time. Here it's the attachment of invitation circular.


Click picture to enlarge
Continue Reading | comments

Reports: Random

Reports: Pakistan Tehreek-e-Insaf [PTI]

Reports: Pakistan Peoples Party [PPP]

Reports: Pakistan Muslim League (N)

 
Copyright © 2012. 'X' Reports - All Rights Reserved
Email Address: info@xreports.net Proudly powered by XReports