Showing posts with label Tharparkar. Show all posts
Showing posts with label Tharparkar. Show all posts

بلاگ: بے ضمیر حکمراں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان

Monday, 31 March 2014


By Muhammad Umair | Published in the XReports.net, on April 1st, 2014

ملک پاکستان بنے 66 سال کا عرصہ بیت گیا۔ پُلوں کے ینچے سے پانی بہہ رہا ہے اور بہتا جارہا ہے۔لیکن پانی کم کیوں ہو رہا ہے اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں بجائے مسائل حل ہونے کے پاکستان کو مزید مسائل اور سالمیت کے خطرات درپیش ہو رہے ہیں۔


تقسیم برصغیر سے پہلے پاکستان کے خلاف جن لوگوں نے اس کی تقسیم کی حمایت کی آج وہی لوگ دربدر اور جنہوں نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی گزشتہ 66 سالوں سے افسوس اقتدار انہی جیسی سوچ کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ ماسوائے چند ایک کے جو پاکستان کی سالمیت کے بارے میں آگاہی دیتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ اپنا سب کچھ پاکستان بنانے اور پاکستان بچانے پر قربان کرتے ہیں وہی لوگ اس ملک میں حکمرانی سے محروم ہیں نہ جانے کیوں اس سوال کا جواب بہت تلخ ہے لیکن جواب ہے ضرور

پاکستان بننے کے بعد سے اب تک کئی بار دشمن مختلف طریقوں سے پاکستان پر حملے کر چکا ہے۔ حکمرانی کے مزے لینے والے خاندان بھی صرف اپنی نسلوں کی بقاء اور خوشحالی کے فیصلے کرتے رہے ہیں اور رہینگے۔ لاکھوں افراد کی جانوں کا نظرانہ پیش کرنے کے بعد بننے والا پاکستان آج نیلام ہونے کی جانب گامزن ہے۔ ہر دور کے اقتدار میں حکمرانوں سے اپنی بساط کے مطابق ملک کو نیلام کرنے کے فیصلے کئے۔

حکمرانی کرنے والے خاندان، سیاستدان، جاگیردار اور وڈیرے اپنے ووٹرز کا درد سمجھنے سے قاصر ہیں۔ انہیں اس درد کا اندازہ اس وجہ سے بھی نہیں ہوتا کیونکہ ایسے تمام افراد منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ہیں۔ چاہیے کوئی انصاف نہ ملنے پر خودسوزی کرے، کسی طالب علم کو گولی مار دی جائے۔ مساجد اور دیگر عباتگاہوں کو بموں سے اڑا دیا جائے یا پھر عدالتوں میں حملے کئے جائیں۔ ایسے تمام حکمراں طبقے نے ہر صورت میں اپنے خاندان کے مستقبل کے بارے میں ہی سوچا کہ انکا مستقبل بہتر سے بہترین ہوسکے۔

اپنے بچوں کے مستقبل کو غریب کے درد اور اسکے ٹیکسس سے سنوانے والے بے ضرر حکمران آخر چاہتے کیا ہیں۔ چاہیے پنجاب یوتھ فیسٹول کے دوران مریم نواز کو لگنے والی چوٹ ہو یا پھر بلاول کا معمولی بخار ان بچوں کا علاج دیار غیر میں ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کے لئے علاج معالجے، تعلیم اور رہن سہن غیر ممالک میں ہی ان سہولیات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے ووٹوں کے زریعے حکمرانی پر لانے والے لوگ ان لوگوں کو ضروریات زندگی سے دور رکھا جاتا ہے۔ پانچ سال گزارنے کے بعد پھر ان سے وعدے اور عہد کئے جاتے ہیں کہ اب کی بار انہیں ضروریات زندگی کی تمام سہولیات میسر ہونگی۔ اسی طرح جمہوری خاندانوں نے تقریبا 30سال کا عرصہ گزار دیا۔

صحرائے تھر میں بلکتے لوگ ہوں یا چولستان کے بھوکے غریب عوام انکے مسائل کو حل کرنے کے لئے بھی سیاست سے کام لیا جاتا ہے۔ امداد کے بڑے بڑے وعدے کر دئیے جاتے ہیں۔ امداد دینے کے دوران بھر پور انداز میں فوٹو اور ویڈیو سیشن کروایا جاتا ہے۔ اعلی حکمران کا استقبال مرغ مسلم سے اس سرزمیں پر کیا جاتا ہے۔ جہاں بھوک و افلاس کے باعث لوگوں کی حالت غیر ہوتی ہے۔ جہاں کے زند ہ لوگ بیماری اور بیمار لوگ موت کے انتظار میں اپنی زندگی ڈر ڈر کے گزار رہے ہوتے ہیں۔ اس دوران اگر میڈیا چینل اور اخباری رپوٹرز اگر نہ پہنچ پائیں یا پھر پہنچنے میں دیر کر دیں تو انکا انتظار بھی کیا جاتا ہے نہ کہ امداد تقسیم کی جاتی ہے۔

دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو حقوق العباد کو ادا کرنے پر زور دیتا ہے اگرچہ انکے نام مختلف ہیں۔ اسلام کی بھی حقوق العباد ادا کرنے کے حوالے سے بہت سخت تاکیدیں اور نہ ادا کرنے پر کڑے عذاب کی وعیدیں بھی سُنائی گئی ہیں۔ اسی طرح ریا کاری، مکر وفریب سے بھی رکنے کا بار بار اشارہ دیا گیا ہے۔ لیکن ہمار ے حکمراں بغیر ریا کاری اور مکروفریب کے کوئی کام نہیں کر پاتے نہ جانے کیوں۔۔؟

اللہ اُن قوموں کی حالت نہیں بدلتا جن قوموں کو اپنی حالت بدلنے کا خود سے خیال نہ ہو۔ مسائل کا حل جب عوام کے پاس ہے تو حکمران کیو ں مسائل حل نہیں کرتے۔؟ ان سوالات کا جواب صرف یہی ہے کہ ہم نے کبھی بھی حکمرانی کے لئے اپنے درمیاں سے قیادت کو متعارف نہیں کرویا جو ہمارے درد اور داد 
رسی کر سکے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنے ہے کہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن ہو یا تابناک۔۔؟

Continue Reading | comments

مرسون مرسون پر سندھ نہ ڈيسون ؛ پر اگر ہم زندہ رہیں گے تو سندھ کسی کو نہیں دیں گے

Monday, 10 March 2014

تھر کی صورتحال ہے کہ اس جدید دور میں بھی تھر زمانہ قبل از مسیح کی تصویر پیش کررہا ہے. فوٹو: فائل
سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف جب سندھ کی تقسیم کی بات کی آواز آنا شروع ہوئی تو پیپلزپارٹی کے چیرمین جناب بلاول بھٹوزرداری صاحب نے سندھی میں ایک ٹوئٹ کیا جس کا مطلب تھا کہ’’ مرجائیں گے مگر سندھ نہیں دیں گے‘‘ تو میرا محترم بلاول صاحب یہ سوال ہے کہ سندھ کے باسی جو بھوک اورپیاس سے مررہے ہیں تو آپ کی حکومت پہلے  ان کو بچانے کا تو بندوبست کرلے۔
یہاں ایک بات میری سمجھ میں جو آتی ہے وہ یہ ہے  کہ پیپلزپارٹی کو سندھ کے بڑے شہری علاقوں میں ووٹ بہت کم پڑتے ہیں اوراس علاقے سے منتخب ہونے والے نمائندے سندھ میں اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہیں سوائے آپ کے پچھلے دورحکومت میں لیکن جب بھی پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت آئی تو شہری علاقوں کے نمائندے اپوزیشن میں بیٹھے ،مگر مجھے جو بات سب سے زیادہ تکلیف پہنچاتی ہے وہ یہ کہ جو لوگ آپ کو ووٹ دے کر اس مسند اقتدار پر بٹھاتے ہیں خدارا ان ہی کا خیال کرلیں۔
میں یہاں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں جب جب عام انتخابات ہوئے تو سندھ میں ہمیشہ وزیراعلیٰ سندھی بولنے والا ہی آیا لیکن  اس نے سندھ کو کیا دیااگر ہم اندرون سندھ کا حال دیکھیں تو سندھ کے حکمرانوں پر افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کیا جاسکتا۔
بلاول بھٹوزرداری صاحب آج کل ٹوئٹراورسیاسی طورپر بہت متحرک ہیں اورجو ان میں خاص بات دیکھنے کی ہے وہ ہے جناب ذوالفقارعلی بھٹو صاحب کا انداز وہ ان کی طرح شیروانی اورقیمض کے کلف کھول کر ہمیں تقریرکرتے تو نظرآتے ہیں لیکن سندھ کے باسیوں کے لئے ان کی حکومت کو جوکرنا چاہئے اسے وہ کرنے سے قاصر ہیں۔
اگر ہم سندھ کی قومی شاہراہوں کا حال دیکھیں تو وہ  خستہ حالی کی تصویرپیش کرتی ہیں، سندھ کا تعلیمی معیار جہاں آج پہنچ گیا ہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اندرون سندھ کے لوگوں کو نہ تو صاف پانی میسر ہے اورنہ ہی صحت کی بنیادی سہولتیں۔
اورجس بات کا مجھے سب سے زیادہ افسوس ہوا وہ میڈیا پر چلنے والی تھر کی صورتحال ہے کہ اس جدید دور میں بھی تھر زمانہ قبل از مسیح کی تصویر پیش کررہا ہے یہاں کے لوگ بھوک، پیاس سے مررہے ہیں اورسندھ کے حکمران چین کی بانسری بجارہے ہیں۔
سندھ کی ثقافت کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا وہ تو سب نے ہی دیکھ لیا کہ اس میں سندھ کی ثقافت کے علاوہ سب کچھ تھا اگر بلاول بھٹو زرداری صاحب کو سندھ کی ثقافت سے اتنی محبت ہے تو اس محبت کا صرف 10 فیصد اظہار سندھ میں بسنے والے لوگوں سے بھی کرلیں تو شاید جہاں آج سندھ ہے یہ وہاں نہ رہے۔
سندھ کا باسی ہونے کے ناطے مجھے جتنا افسوس ہوتا ہے شاید وہ اس تحریر میں نظر نہ آئے میں یہاں صرف اتنا کہوں کا کہ اگرہم زندہ رہیں گے تو پھر سندھ بھی کسی کو نہیں دیں گے۔

Published in the XReports.net, on March 10th, 2014 | Express
Continue Reading | comments

Tharparkar famine: PPP CM says, “I can’t do anything further”

Friday, 7 March 2014


Sindh Chief Minister Syed Qaim Ali Shah has taken notice of the death of children in drought-hit Tharparkar district and directed health officials to provide adequate medical facilities to the ailing children, a private news channel reported on Friday.

People in Tharparkar, the desert area of Sindh, are facing famine-like situation in most of the areas where at least 32 malnourished children are reported to have died owing to food shortage. At least 193 children have died in Thar over the past three months.

On the other hand, reports said that thousands of tonnes of wheat sent by the provincial government for distribution among the people is rotting in Food Department’s godowns.

In recent days, thousands of families have been affected by the drought which compelled them to leave their homes and move to other areas in search of water.

On Thursday, Pakistan Peoples Party (PPP) Patron-in-Chief Bilawal Bhutto Zardari expressed his concern over the grave situation in Thar and directed Sindh Government to immediately launch relief operations in the affected areas.

On his direction, Sindh Chief Minister Syed Qaim Ali Shah took the notice of children’s deaths and visited civil hospital Mithi.

His government has spent millions of rupees on Sindh Festival, but the relief announced by the CM was mere 25 kg wheat each for affected family. When the reporters raised question over the quantity of the relief and termed it insufficient, the CM said “I can’t do anything further; this is only what we have for the relief.”

He rejected reports about number of children’s deaths, and directed health officials to provide adequate medical facilities to the ailing children.

The other thing he did during his visit was suspension of Tharparkar deputy director of livestock/animal husbandry Dr Nobat Khan Khoso for his failure to prevent animal disease in the desert.

The CM claimed that Sindh government has increased the amount of aid for Tharparkar from Rs 9.3 million to Rs18.6 million.

Ranikhet disease has left hundreds of peacocks dead in Tharparkar.

Published in the XReports.net, on March 7th, 2014 | PT
Continue Reading | comments

PTI, PML-N join hands ‘quietly’ in Sindh’s district Tharparkar

Saturday, 4 May 2013

04-05-2013 | SAMAA
THARPARKAR: Apparently, archrivals Pakistan Tehrik-e-Insaf and Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) have joined hands ‘quietly’ with other key parties against Pakistan People’s Party (PPP) candidate in District Tharparkar of Sindh, SAMAA reports.

Sindh’s District Tharparkar is portraying a very strange political picture in comparison to the other areas of the country, where all key political parties are supporting or not contesting against PTI’s senior leader Shah Mehmood Qureshi.

The PML-N, the biggest rival being painted by the PTI, has also not fielded its candidate against Shah Mehmood Qureshi in Tharparkar’s constituency NA-230.

Arbab Rahim, a key leader of the area, has also withdrawn its candidate Dr. Ghulam Hiader Samejo, in favor of PTI’s Qureshi.

The PML-F Chief Pir Pagaro is a part of ten-party alliance with the PML-N in Sindh but he has also announced his support for Shah Mehmood Qureshi.

On other seats of Tharparkar, very stiff competition will be seen amongst candidates of the PPP, PTI and Arbab Group.

Arbab Rahim, Chief of People’s Muslim League, called on The PML-N Chief Nawaz Sharif in Thatta and held successful talks over seats adjustment in different constituencies including Mirpur Khas Division.

Under the prevailing political scenario in Tharparkar, now it is clear that all parties including key rivals PTI and PML-N have developed understanding for support to Shah Mehmood Qureshi in NA-230 against PPP candidate Noor Muhammad Shah Jeelani.


Continue Reading | comments

Reports: Random

Reports: Pakistan Tehreek-e-Insaf [PTI]

Reports: Pakistan Peoples Party [PPP]

Reports: Pakistan Muslim League (N)

 
Copyright © 2012. 'X' Reports - All Rights Reserved
Email Address: info@xreports.net Proudly powered by XReports